علی کانگریس امامباڑہ مکہ درزی کی عمارت کو نقصان پہنچائے جانے کی سخت مذمت کرتی ہے!

    0
    148

    سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصویروں، جس میں ایک عمارت کے دروازے کو بولڈوزر سے گراتے ہوئے صاف دیکھا جا سکتا ہے، اسی کے ساتھ دوسری تصویروں جن میں سے ایک پر اس عمارت کا نام ” مکہ امامباڑہ۔ خیراباد، سیتاپور“ بھی لکھا ہواہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسی عمارت پر بلڈوزر چلایا جا رہا ہے۔تنظیم علی کانگریس اوتر پردیش کے خیرآباد(ضلع سیتاپور) میں امامباڑا مکہ درزی کے صدر دروازے کو منہدم کئے جانے کی سخت مذمت کرتی ہے۔یہ کا م جب بھی ہوا ہو، جس نے بھی کیا ہو تنظیم علی کانگریس اس پور زور مذمت کرتی ہے۔ ایسی تاریخی عمارتیں ملک کی وراثت ہیں ان پر فخر ہونا چاہیے اور ان کی حفاظت کی ہر ممکن کوشش ہونا چاہئے ہے، لیکن یہ افسوس کی بات ہے کہ ان کو مسمار کیا جا رہا ہے۔ اس امامباڑے کی یہ شاندار عمارت اس قدر بدحالی کا شکار کیسے ہوی یہ بات وقف بورڈ کے علاوہ ان تمام محکموں کی کارگردگی کی حقیقت بیان کرتی ہے جن پر اس عمارت اور اس جیسی تمام عمارتوں کے تحفظ کی ذمہ داری ہے۔ کیا اس امامباڑے کے تحفظ کی ضرورت اس لئے نہیں سمجھی گئی کیوں کہ یہ ملک کی اقلیت کی مذہبی عمارت ہے؟ کیا یہ قدم دھیرے دھیرے ملک سے مسلمانوں کی تہذیب کے نشان مٹانے کی کوشش کا ایک حصہ ہے؟ اس طرح کا واقعہ ملک کی اقلیت میں بے چینی، بے یقینی اور بے ا عتمادی پیدا کرنے کے لئے کافی ہے۔ ملک کی یہ عمارتیں صرف مذہبی ہی نہیں بلکہ تاریخی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان کا اس طرح مسمار کیا جانا صرف شیعہ مسلمانوں کو ہی نہیں بلکہ سبھی سیکیولر اور حق پسند افراد چاہئے وہ کسی بھی مذہب و ملت کے ہوں، ان کے نزدیک غلط اور نا قابل قبول ہے۔ اس طرح ایک تاریخی اور مذہبی عمارت کو مسمار کیا جانا ملک کی مذہبی اقلیت کے مذہبی جذبات کو تکلیف دینا ہی نہیں بلکہ تاریخی وراثت کی پامالی بھی ہے۔

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here